سوز دل
معنی
١ - خلوص؛ لگن، گہرا لگاؤ۔ "وہ تعمیر و تصویر جو سوزِ دل میں بنائی اور خُونِ جگر سے سینچی گئی ہو۔" ( ١٩٨٢ء، خشک چشمے کے کنارے، ١٤٩ )
اشتقاق
فارسی زبان سے مرکبِ اضافی ہے۔ فارسی سے اسم کیفیت 'سوز' بطور مضاف کے ساتھ کسرۂ اضافت بڑھا کر فارسی سے اسم جامد 'دل' بطور مضاف الیہ ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٩٨٢ء کو "خشک چشمے کے کنارے" تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خلوص؛ لگن، گہرا لگاؤ۔ "وہ تعمیر و تصویر جو سوزِ دل میں بنائی اور خُونِ جگر سے سینچی گئی ہو۔" ( ١٩٨٢ء، خشک چشمے کے کنارے، ١٤٩ )